Monday, 17 February 2014

تنہأی

میرے کانوں میں رس گھولو
یہ شور ختم کرو
مجھے خامشی سناؤ

مجھے حسن دکھاؤ
جھیل پر
ارتعاش تو ہے
باطن میں صدف نہیں

مجھے بھوک دو
روزہ لگاؤ۔
یہ ذاءقے،
یہ پکوان،
یہ پاستے،
یہ شنواریاں،
یہ معجون،
میری بھوک
نہیں مٹاتے
مجھے اور دو
مجھے نہ دو

تنہأی دو
اِن جھرنوں چشموں نالوں میں
اِن کرن پھٹتے دھؤوں میں
اِن چناروں چیڑوں سفیدوں میں
اِن کاگاؤں میناؤں چیلوں میں
اِن لؤوں بادوں ہواؤں میں
اِن ہلال شمس تاروں میں
اِن سنّاٹوں میں
میں پھٹ جاتا ہوں
مجھے تنہأی دو

No comments:

Post a Comment