میرے کانوں میں رس گھولو
یہ شور ختم کرو
مجھے خامشی سناؤ
مجھے حسن دکھاؤ
جھیل پر
ارتعاش تو ہے
باطن میں صدف نہیں
مجھے بھوک دو
روزہ لگاؤ۔
یہ ذاءقے،
یہ پکوان،
یہ پاستے،
یہ شنواریاں،
یہ معجون،
میری بھوک
نہیں مٹاتے
مجھے اور دو
مجھے نہ دو
تنہأی دو
اِن جھرنوں چشموں نالوں میں
اِن کرن پھٹتے دھؤوں میں
اِن چناروں چیڑوں سفیدوں میں
اِن کاگاؤں میناؤں چیلوں میں
اِن لؤوں بادوں ہواؤں میں
اِن ہلال شمس تاروں میں
اِن سنّاٹوں میں
میں پھٹ جاتا ہوں
مجھے تنہأی دو
No comments:
Post a Comment